امریکی بحریہ کی تعیناتی: وینزویلا پر ‘جنگ مسلط’ کرنے کا الزام؟
وینزویلا اور امریکہ کے درمیان تناؤ کی یہ نئی لہر، جو 2025 کے وسط میں سامنے آئی ہے، خطے کی سیاسی اور فوجی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ 24 اکتوبر 2025 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے دنیا کے سب سے بڑے جنگی جہاز، USS Gerald R. Ford، کو کیریبین کے پانیوں میں تعینات کرنے کا اعلان کیا۔ یہ اقدام امریکی حکام کے مطابق ڈرگ کارٹیلز کے خلاف ایک بڑی مہم کا حصہ ہے، جو وینزویلا کی حدود کے قریب منشیات کی اسمگلنگ کو روکنے پر مرکوز ہے۔ تاہم، وینزویلا کے صدر نکولس مدورو نے اسے “جنگ مسلط کرنے” کی کوشش قرار دے دیا ہے، اور اسے امریکی سامراجیت کی تازہ ترین حرکت کہا ہے۔
یہ تنازعہ صرف فوجی تعیناتی تک محدود نہیں بلکہ وینزویلا کی اندرونی سیاسی بحران، معاشی مشکلات، اور علاقائی اتحادوں کی سیاست سے جڑا ہوا ہے۔ مدورو کی حکومت، جو روس، ایران، اور چین جیسی طاقتوں کی حمایت پر قائم ہے، اسے امریکی مداخلت کا نتیجہ قرار دے رہی ہے۔ دوسری طرف، امریکہ اسے علاقائی استحکام اور منشیات کے خلاف عالمی جنگ کا حصہ بتاتا ہے۔
امریکی تعیناتی کا پس منظر
امریکی تعیناتی کا پس منظر وینزویلا کی جاری سیاسی اور معاشی بحران سے جڑا ہے۔ 2019 سے وینزویلا میں ہائیپرکشش اور انسانی بحران جاری ہے، جس کی وجہ سے لاکھوں لوگ ملک چھوڑ چکے ہیں۔ مدورو کی حکومت پر منشیات کی اسمگلنگ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات لگے ہوئے ہیں۔ 2024 کے انتخابات میں مدورو کی دوبارہ جیت کو امریکہ اور یورپی یونین نے تسلیم نہ کیا، جس سے تناؤ بڑھ گیا۔
2025 میں، ٹرمپ کی واپسی کے بعد، امریکہ نے کیریبین میں فوجی کارروائیاں تیز کر دیں۔ پچھلے دو ماہ میں، امریکی بحریہ نے مشتبہ کشتیوں پر حملے کیے، جن میں 43 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ کارروائیاں Southern Command کی نگرانی میں ہوئیں، جو ڈرگ ٹریفیکنگ کو روکنے کا دعویٰ کرتی ہے۔ ڈیفنس سیکریٹری پیٹ ہیگسیتھ نے اعلان کیا کہ USS Gerald R. Ford کی تعیناتی “علاقائی استحکام” کو یقینی بنانے کے لیے ہے۔ ٹرمپ نے ٹوئٹر (اب X) پر پوسٹ کیا کہ “منشیات کا سیلاب رک جائے گا، چاہے کچھ بھی ہو”۔
یہ تعیناتی روس کی وینزویلا میں فوجی مدد اور ایران کی تیل کی تجارت سے بھی متاثر ہے۔ امریکی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق، وینزویلا سے آنے والے 90% کوکین امریکہ پہنچتے ہیں۔ اس لیے، یہ مہم صرف فوجی نہیں بلکہ معاشی دباؤ کا حصہ ہے، جو وینزویلا کی تیل کی برآمدات کو نشانہ بناتی ہے
مدورو کا بیان اور وینزویلا کا ردعمل
وینزویلا کے صدر نکولس مدورو نے 25 اکتوبر 2025 کو قومی ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے کہا، “امریکہ ایک جعلی جنگ بنا رہا ہے۔ وہ دنیا کا سب سے بڑا جنگی جہاز بھیج کر ہمیں دباو میں لانا چاہتا ہے۔” انہوں نے اسے “امریکی سامراجیت کی نئی چال” قرار دیا اور قومی فوج کو ہائی الرٹ پر ڈال دیا۔ مدورو نے روس اور ایران سے مدد کا مطالبہ کیا، اور وعدہ کیا کہ “ہماری خودمختاری کا دفاع کریں گے”۔
وینزویلا کی فوج نے سرحدی علاقوں میں مشقیں شروع کر دیں، اور کراکاس میں احتجاجی مظاہرے ہوئے جہاں لوگوں نے “یینکیز گھر جاؤ” کے نعرے لگائے۔ مخالفین، جیسے ماریا کورینا مشادو، نے مدورو کو “ڈرگ ڈکٹیٹر” کہا اور امریکی کارروائی کو “انصاف کی فتح” قرار دیا۔ X (سابقہ ٹوئٹر) پر ہیش ٹیگ #GringosGoHome ٹرینڈ کر رہا ہے، جہاں لاطینی امریکی ممالک کے لوگ امریکہ کی تنقید کر رہے ہیں۔
مدورو کی حکومت نے امریکی سفارت کاروں کو نکالنے کی دھمکی دی ہے، اور OAS (Organization of American States) سے مدد طلب کی ہے۔ یہ ردعمل وینزویلا کی اندرونی کمزوریوں کو بھی اجاگر کرتا ہے، جہاں فوج کی وفاداری مدورو پر منحصر ہے، لیکن معاشی بحران نے عوامی ناراضگی بڑھا دی ہے
امریکی کا موقف
امریکی حکام کا موقف واضح ہے: یہ تعیناتی “ڈرگ وار” کا حصہ ہے، نہ کہ کوئی جارحانہ اقدام۔ پینٹاگون نے بیان جاری کیا کہ “ہمارا مقصد علاقائی استحکام اور منشیات کی روک تھام ہے”۔ ٹرمپ نے کہا کہ “وینزویلا سے آنے والے زہر کو روکنا ہماری ترجیح ہے”۔ یہ مہم 2024 سے جاری ہے، جہاں F-35 جیٹس اور ڈرونز استعمال ہوئے ہیں۔
امریکہ کا دعویٰ ہے کہ Tren de Aragua کارٹیل مدورو کی حمایت یافتہ ہے، جو انسانی اسمگلنگ اور ہتھیاروں کی تجارت میں ملوث ہے۔ ہیگسیتھ نے کانگریس کو بتایا کہ یہ تعیناتی “غیر فوجی” ہے، لیکن تجزیہ کار اسے regime change کی تیاری قرار دیتے ہیں۔ ٹرمپ کی انتظامیہ نے وینزویلا پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں، جو تیل کی برآمدات کو 50% کم کر دیں گی۔
یہ موقف امریکی عوام میں مقبول ہے، جہاں منشیات کا بحران ہزاروں اموات کا باعث بن رہا ہے۔ تاہم، انسانی حقوق کی تنظیمیں اسے “انتہا پسندانہ” کہتی ہیں، کیونکہ حالیہ حملوں میں عام شہری ہلاک ہوئے
علاقائی اثرات کیا ہوسکتے ہیں
یہ تناؤ لاطینی امریکہ کو متاثر کر رہا ہے۔ کولمبیا اور برازیل جیسے ہمسایہ ممالک میں سرحدی تناؤ بڑھ گیا ہے، جہاں مہاجرین کا بحران شدت اختیار کر رہا ہے۔ برازیل کے صدر لولا دا سلوا نے “غیر جانبداری” کا اعلان کیا، لیکن ان کی حکومت مدورو کی حمایت کرتی ہے۔ میکسیکو اور کیوبا نے امریکہ کی مذمت کی ہے، جبکہ ارجنٹائن کی نئی دائیں بازو کی حکومت اس کی حمایت میں ہے۔
اقتصادی طور پر، کیریبین کے تیل مارکیٹ متزلزل ہو گئے ہیں، اور عالمی تیل کی قیمتیں 5% بڑھ گئیں۔ روس نے وعدہ کیا ہے کہ وہ وینزویلا کو S-400 میزائل سسٹم فراہم کرے گا، جو تناؤ کو بڑھا سکتا ہے۔ اب پتہ چلتا ہے کہ علاقائی لوگ “امریکی سامراجیت” کے خلاف متحد ہو رہے ہیں۔ یہ صورتحال CELAC (Community of Latin American and Caribbean States) کو فعال بنا سکتی ہے، جو امریکہ کی مخالفت کرے گی۔
ممکنہ نتائج
اگر یہ تنازعہ بڑھا تو ممکنہ نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ فوجی تصادم کی صورت میں، USS Gerald R. Ford کی طاقت وینزویلا کی فوج کو کچل سکتی ہے، لیکن روس کی مداخلت سے یہ عالمی بحران بن جائے گا۔ سفارتی طور پر، اقوام متحدہ میں بحث ہو سکتی ہے، جہاں چین وٹیٹو کاسٹ دے گا۔
دوسری طرف، مدورو کی حکومت گر سکتی ہے، جو علاقائی عدم استحکام لائے گی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ “پروکسی وار” بن سکتا ہے، جہاں امریکہ اور روس بالواسطہ لڑیں گے۔ معاشی پابندیوں سے وینزویلا کی جی ڈی پی مزید 20% کم ہو سکتی ہے۔ مثبت طور پر، اگر سفارتی کوششیں کامیاب ہوئیں تو منشیات کی روک تھام میں پیش رفت ہو سکتی ہے
امریکی تعیناتی اور مدورو کے الزامات نے کیریبین کو ایک بار پھر تناؤ کی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ یہ صرف فوجی اقدام نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش کا مظہر ہے۔ سفارتی حل کی ضرورت ہے، ورنہ یہ علاقائی بحران عالمی جنگ کی طرف جھک سکتا ہے۔ لاطینی امریکہ کو متحد ہو کر اسے روکنا ہوگا، تاکہ امن قائم رہے