پلاسٹک میں رکھا کھانا کیسے بن سکتا ہے کینسر کی وجہ!

پلاسٹک اور انسانی صحت — ایک خطرناک رشتہ

دنیا بھر میں پلاسٹک کا استعمال روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ بازار سے خریدی جانے والی سبزی، دال، گوشت، دودھ، اور حتیٰ کہ گرم سالن تک اب زیادہ تر پلاسٹک کے شاپر یا ڈبوں میں دیا جاتا ہے۔ یہ سہولت وقتی طور پر آسان لگتی ہے، مگر حقیقت میں یہ ہمارے جسم اور ماحول کے لیے بہت بڑا خطرہ بن چکی ہے۔

یہ آرٹیکل اسی خطرے کی نشاندہی کرتا ہے کہ آخر پلاسٹک اور شاپر میں رکھا گیا کھانا کیسے زہر بن جاتا ہے اور یہ ہمارے جسم میں داخل ہو کر کون کون سی خطرناک بیماریاں پیدا کرتا ہے۔

جب پلاسٹک میں گرم کھانا رکھا جائے تو کیا ہوتا ہے؟

جب آپ پلاسٹک کے شاپر یا ڈبے میں گرم سالن، چائے یا سوپ رکھتے ہیں،

تو حرارت کی وجہ سے پلاسٹک میں موجود کیمیائی اجزاء پگھل کر کھانے میں شامل ہو جاتے ہیں۔

یہ مادے خوردنی نہیں بلکہ زہریلے ہوتے ہیں، جیسے

بی پی اے (BPA) – ہارمونز کے نظام کو بگاڑتا ہے۔

فتھالیٹس (Phthalates) – جگر، گردے اور تولیدی نظام پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

سٹائرین (Styrene) – دماغ اور اعصاب کے لیے نقصان دہ ہے۔

اینٹی مونی (Antimony) – کینسر پیدا کرنے والے عناصر میں شامل ہے۔

یہ تمام کیمیکل جسم میں جا کر وقت کے ساتھ جمع ہوتے رہتے ہیں اور آہستہ آہستہ زہر بن جاتے ہیں۔

پلاسٹک میں رکھے گئے کھانے سے پیدا ہونے والی بیماریاں کون کون سی ہو سکتی ہیں ۔؟

1. کینسر

تحقیقات کے مطابق، پلاسٹک میں استعمال ہونے والے BPA اور Dioxin جیسے کیمیکل انسانی خلیات میں تبدیلی پیدا کرتے ہیں جو بالآخر کینسر کا باعث بن سکتے ہیں۔ خاص طور پر بریسٹ کینسر، جگر اور مثانے کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

2. دل اور دورانِ خون کے امراض

پلاسٹک میں موجود زہریلے مادے خون میں شامل ہو کر شریانوں کو تنگ کرتے ہیں اور بلڈ پریشر بڑھانے کا باعث بنتے ہیں۔ نتیجتاً دل کے امراض اور ہارٹ اٹیک کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

3. تولیدی نظام پر اثرات

پلاسٹک میں موجود فتهالیٹس مرد و خواتین دونوں کے ہارمونی توازن کو بگاڑ دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بانجھ پن، ہارمونل مسائل اور جنسی کمزوری جیسے مسائل سامنے آتے ہیں۔

4. بچوں میں دماغی اور جسمانی کمزوری

پلاسٹک میں گرم دودھ یا خوراک دینا بچوں کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ بی پی اے بچوں کے دماغ، یادداشت اور اعصاب پر برا اثر ڈال کر نشوونما کو سست کر دیتا ہے۔

5. جگر اور گردے کی خرابی

پلاسٹک کے زہریلے مادے جسم میں جمع ہو کر جگر اور گردوں پر بوجھ ڈالتے ہیں، جس سے فیٹی لیور، گردوں کی سوجن یا فیل ہونے جیسے مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔

6. معدے کے مسائل

پلاسٹک میں کھانا کھانے سے تیزابیت، گیس، بدہضمی اور معدے کے السر جیسی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں، کیونکہ جسم ان زہریلے مادوں کو ہضم نہیں کر پاتا۔

پلاسٹک کے شاپر کے ماحولیاتی نقصانات

یہ مسئلہ صرف انسانی صحت تک محدود نہیں بلکہ ماحولیاتی تباہی کی ایک بڑی وجہ بھی ہے۔

پلاسٹک سینکڑوں سالوں میں بھی ختم نہیں ہوتا، اور زمین یا سمندر میں پھینکنے سے یہ:

مٹی کی زرخیزی کم کرتا ہے

سمندری جانداروں کو ہلاک کرتا ہے

زیرِ زمین پانی آلودہ کرتا ہے

ہوا میں زہریلے دھوئیں پیدا کرتا ہے

یعنی پلاسٹک نہ صرف ہمیں بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی تباہی کی طرف لے جا رہا ہے۔

متبادل حل — صحت مند اور محفوظ طریقے

ہم پلاسٹک کو مکمل طور پر ختم تو نہیں کر سکتے، لیکن اپنی روزمرہ زندگی میں بہتر متبادل اختیار کر کے نقصان کو کم کر سکتے ہیں۔

1. کپڑے یا کاغذ کے شاپر

بازار سے خریداری کے لیے کپڑے یا جُوٹ کے بیگز استعمال کریں۔ یہ ماحول دوست بھی ہیں اور بار بار استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

2. شیشے یا اسٹیل کے برتن

کھانے کو محفوظ رکھنے کے لیے شیشے، اسٹیل یا مٹی کے برتن بہترین ہیں۔ یہ حرارت برداشت کرتے ہیں اور کسی قسم کے کیمیکل خارج نہیں کرتے۔

3. مائیکروویو میں پلاسٹک استعمال نہ کریں

کبھی بھی پلاسٹک کے برتنوں میں کھانا گرم نہ کریں، خاص طور پر مائیکروویو میں۔ حرارت سے پلاسٹک کے ذرات کھانے میں شامل ہو جاتے ہیں۔

4. لیبل چیک کریں

اگر پلاسٹک استعمال کرنا مجبوری ہو تو وہ برتن یا بوتل استعمال کریں جن پر لکھا ہو:

“BPA Free” یا “Food Grade Plastic”۔

حکومت اور عوام کی ذمہ داری

یہ مسئلہ صرف انفرادی نہیں بلکہ قومی سطح پر بھی توجہ کا متقاضی ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ:

پلاسٹک شاپر پر مکمل پابندی لگائے

عوامی آگاہی مہم چلائے

ماحول دوست مصنوعات بنانے والی کمپنیوں کو سہولت فراہم کرے

جبکہ عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی عادات میں تبدیلی لائیں۔ خریداری کرتے وقت اپنا بیگ ساتھ رکھیں، پلاسٹک کے برتنوں سے پرہیز کریں، اور دوسروں کو بھی اس کے خطرات سے آگاہ کریں۔

پلاسٹک کا تعارف اور اس کی اقسام

پلاسٹک دراصل ایک مصنوعی مادہ (Synthetic Material) ہے جو پٹرولیم یا قدرتی گیس سے تیار کیا جاتا ہے۔ اسے مختلف کیمیائی عمل سے گزار کر نرم، سخت یا شفاف بنایا جاتا ہے۔

عام طور پر روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والے پلاسٹک کی چند اقسام درج ذیل ہیں:

1. پولی ایتھین (Polyethylene) – شاپنگ بیگز میں استعمال ہوتا ہے۔

2. پولی پروپلین (Polypropylene) – کھانے کے ڈبوں اور کپوں میں۔

3. پولی وینائل کلورائیڈ (PVC) – بوتلوں اور پائپوں میں۔

4. پولی اسٹائرین (Polystyrene) – چائے کے کپ، برگر باکس اور ڈسپوزیبل پلیٹوں میں۔

یہ تمام اقسام بظاہر محفوظ دکھائی دیتی ہیں، مگر جب ان میں گرم کھانا رکھا جائے تو یہ کیمیائی مادے خارج کرتی ہیں جو انسانی جسم میں داخل ہو کر خطرناک اثرات ڈالتے ہیں۔

سائنسی تحقیق کیا کہتی ہے؟

دنیا بھر کے ادارے، جیسے WHO (عالمی ادارۂ صحت) اور UNEP (ماحولیاتی پروگرام)، پلاسٹک کو ایک خاموش قاتل (Silent Killer) قرار دے چکے ہیں۔
ان رپورٹس کے مطابق دنیا میں سالانہ 80 لاکھ ٹن سے زیادہ پلاسٹک سمندروں میں پھینکا جاتا ہے، جس کا بڑا حصہ خوراک کے نظام میں واپس آ جاتا ہے — یعنی ہم خود وہی زہر کھا رہے ہیں جو ہم پھینکتے ہیں۔

عوامی شعور اور میڈیا کا کردار

میڈیا، خاص طور پر سوشل میڈیا، اس حوالے سے بڑا کردار ادا کر سکتا ہے۔

اگر عوام کو معلومات دی جائیں، آگاہی مہمات چلائی جائیں اور سکول و کالج کی سطح پر یہ تعلیم دی جائے تو آنے والی نسلوں کو اس خطرے سے بچایا جا سکتا ہے۔

نتیجہ — ایک چھوٹی سی تبدیلی، بڑی زندگی

ہم سب اپنی زندگی میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں لا کر ایک بڑی مثبت تبدیلی پیدا کر سکتے ہیں۔

پلاسٹک کے شاپر اور برتنوں سے بچنا شاید شروع میں مشکل لگے، مگر یہ ہمارے بچوں، خاندان اور ماحول کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔

اگر آج ہم نے احتیاط نہیں کی، تو آنے والی نسلیں ہمیں پلاسٹک کے زہر میں پلنے والی قوم کے طور پر یاد کریں گی۔
اس لیے آج ہی فیصلہ کریں —

پلاسٹک کو “نہیں” اور صحت مند زندگی کو “ہاں” کہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top