-
جب ٹرمپ کی موجودگی میں نیتن ہاہو نے قطر سے معذرت کی۔
-
وائٹ ہاؤس کی پریس ریلیز کی اہم نشان دہی
- اکتوبر 2025 – مشرق وسطی کی پیچیدہ جغرافیائی سیاست میں ایک نیا موڑ آ یا جب 29 ستمبر 2025 کو وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی ملاقات کے دوران،ح نیتن یاہو نے قطری وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی سے ایک فون کال پر معذرت کی۔ یہ معذرت 9 ستمبر کو دوحہ میں ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے پر تھی، جس میں حماس کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا گیا تھا اور ایک قطری سیکیورٹی گارڈ سمیت چھ افراد ہلاک ہوئے۔ ٹرمپ کی موجودگی میں یہ فون کال نہ صرف سفارتی تناؤ کو کم کرنے کا ذریعہ بنی بلکہ غزہ میں جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کی بنیاد بھی رکھ دی۔ وائٹ ہاؤس نے اس موقع کی ایک تاریخی تصویر بھی جاری کی، جس میں ٹرمپ فون اپنے گود میں پکڑے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں جبکہ نیتن یاہو معذرت کا تحریری نوٹ پڑھ رہے ہیں۔ فلسطینیوں کے مطابق یہ ظالم کی جھوٹی معافی ہے
#غزہ_امن_مذاکرات دو سالہ جنگ کے تناظر میں دیکھا جائے تو انتہائی اہم ہے، جو 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے سے شروع ہوئی تھی۔ اس جنگ میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، لاکھوں بے گھر ہوئے ہیں، اور انسانی بحران عروج پر پہنچ گیا ہے۔ قطر، جو حماس کی ثالثی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، نے حملے کے بعد اپنا کردار معطل کر دیا تھا۔ اب معذرت کے بعد قطر نے ثالثی بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جو امن مذاکرات کو نئی جان ڈال سکتا ہے۔ تاہم، اسرائیل میں اسے نیتن یاہو کی کمزوری قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ فلسطینی حلقوں میں اسے “ظالم کی جھوٹی معافی” کہا جا رہا ہے۔ اس آرٹیکل میں ہم اس واقعے کی تفصیلات، پس منظر، اثرات اور عالمی ردعمل کا جائزہ لیں گے۔
-
نتن یاہو کی شرمندگی اور افسوس
- نیتن یاہو نے حملے پر “گہرے افسوس” کا اظہار کیا اور تسلیم کیا کہ اس سے قطری سرزمین کی خلاف ورزی ہوئی۔
- انہوں نے وعدہ کیا کہ “مستقبل میں قطری سرزمین پر ایسا کوئی حملہ نہیں کیا جائے گا”۔
- ٹرمپ نے اس کال کی سہولت فراہم کی، جو اوول آفس میں بیٹھے بیٹھے ہوئی۔ ٹرمپ نے فون اپنے گود میں رکھا ہوا تھا جبکہ نیتن یاہو معذرت کی تحریری نوٹ پڑھ رہے تھے (وائٹ ہاؤس کی جاری کردہ تصویر اس کی گواہی دیتی ہے)۔
- کال کے بعد، تینوں رہنماؤں نے غزہ میں جنگ ختم کرنے، یرغمالیوں کی رہائی، اور علاقائی امن پر بات چیت کی۔ قطر نے معذرت قبول کرتے ہوئے اپنا ثالثی کا کردار بحال کرنے کا اعلان کیا۔
-
ٹرمپ کا بیس نکاتی ایجنڈا
-
ٹرمپ کا 20 نکاتی منصوبہ غزہ کی تعمیر نو، یرغمالیوں کی واپسی، اور حماس کی ختم کرنے پر مبنی ہے۔ اس میں فلسطینی اتھارٹی کو غزہ کی نگرانی دی جائے گی، جبکہ اسرائیل کو سیکورٹی ضمانتیں ملیں گی۔ قطر اور مصر اسے مزید واضح کرنے پر کام کر رہے ہیں۔ قطری وزیر اعظم نے الجزیرہ کو انٹرویو میں کہا: “یہ منصوبہ ابتدائی مرحلے میں ہے، اور IDF کی واپسی پر بحث درکار ہے۔ ہم فلسطینی حقوق کی حفاظت کریں گے۔”
-
حماس نے منصوبے کو “غزہ کی تقسیم” قرار دیا ہے، جبکہ اسرائیلی حزب اختلاف نے نیتن یاہو پر “حماس کو فائدہ پہنچانے” کا الزام لگایا۔ یروشلم پوسٹ کے مطابق، اسرائیل میں یہ معذرت “قومی شرم” ہے۔ عالمی سطح پر، اقوام متحدہ نے استقبال کیا، یہ کہتے ہوئے کہ “یہ جنگ بندی کی طرف قدم ہے
-
حملے کا پس منظر
-
ستمبر کا حملہ: اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ حماس9 ستمبر 2025 کو قطر کی دارالحکومت دوحہ میں اسرائیلی فضائیہ نے ایک خفیہ آپریشن کیا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق، یہ حملہ حماس کے اعلیٰ رہنماؤں پر تھا، جو 7 اکتوبر کے حملے کے ذمہ دار تھے اور اس وقت قطر میں امن مذاکرات کی تیاری کر رہے تھے۔ حملے کا ہدف حماس کے سیاسی دفتر تھا، جہاں رہنما یرغمالیوں کی رہائی پر بات چیت کر رہے تھے۔ تاہم، حملہ ناکام رہا – حماس کے رہنما محفوظ رہے، لیکن ایک قطری سیکیورٹی گارڈ بدر الدوسری سمیت چھ افراد ہلاک ہو گئے۔ قطر نے اسے “سرزمین کی خلاف ورزی اور مجرمانہ حملہ” قرار دیا، اور فوری طور پر حماس کے ساتھ ثالثی معطل کر دی۔
- قطر، جو حماس کو مالی اور سیاسی مدد دیتا ہے، مشرق وسطیٰ میں ثالثی کا مرکز ہے۔ امریکہ، مصر اور قطر کی تینوں فریقوں کی ثالثی سے پہلے کئی معاہدے ہونے والے تھے، جن میں یرغمالیوں کی جزوی رہائی شامل تھی۔ حملے نے ان کوششوں کو شدید دھچکا لگایا۔ اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نے حملے کی ذمہ داری قبول کی، کہتے ہوئے کہ “دہشت گردوں کو کہیں بھی نشانہ بنایا جائے گا”۔ لیکن قطر نے اسے “ریاستی دہشت گردی” کہا اور امریکہ سے مداخلت طلب کی۔ ٹرمپ، جو اپنی دوسری مدت صدارت میں مشرق وسطیٰ امن کو ترجیح دے رہے ہیں، نے فوری طور پر نیتن یاہو کو تنبیہ کی اور معذرت کو امن منصوبے کی شرط قرار دیا۔
- اس حملے کی جڑیں غزہ کی جاری جنگ میں ہیں۔ 7 اکتوبر 2023 کو حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا، جس میں 1200 اسرائیلی ہلاک ہوئے اور 250 کو یرغمال بنا لیا گیا۔ اسرائیل نے جوابی کارروائی میں غزہ پر حملہ کیا، جس میں 40 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق، غزہ میں انسانی بحران شدید ہے – بھوک، بیماریاں اور تباہی عام ہے۔ قطر کی ثالثی کے بغیر امن ممکن نہیں، اس لیے یہ معذرت ایک لازمی قدم تھی۔
-
حماس کا رد عمل
- ٹرمپ نے منصوبے کے اعلان کے فوراً بعد حماس کو “3 سے 4 دن” کا الٹی میٹم دیا، یعنی تقریباً 2-3 اکتوبر تک جواب دینے کا مطالبہ کیا حماس نے ابھی تک کوئی حتمی جواب نہیں دیا، مگر قطری اور مصری ثالثی کاروں نے 30 ستمبر کو دوحہ میں حماس قیادت کو منصوبہ پیش کیا۔ ایک حماس ترجمان محمود مرداوی نے الجزیرہ کو بتایا کہ گروپ “ذمہ داری سے” اس کا جائزہ لے رہا ہے، مگر یہ “غزہ کی تقسیم” کا منصوبہ لگتا ہےحماس کی بنیادی شرط یرغمالیوں کی رہائی اور اسرائیلی فوج کی مکمل واپسی ہے، جبکہ منصوبہ میں حماس کی عدم مسلح اور سیاسی خاتمہ شامل ہے – جو حماس کے لیے ناقابل قبول ہے۔