ابھی تک کی صورتحال
سینیٹر مشتاق احمد خان نے اپنے ٹویٹر ہینڈل پر ایک ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ بہت جلد،۔۔۔۔۔۔۔غ زہ پہنچ کر رہینگے ان شاءاللہ۔
غزہ میں جاری انسانی بحران، جہاں بھوک اور قحط کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، نے عالمی برادری کو ایک عظیم چیلنج سے دوچار کیا ہے۔ اس بحران کے حل کے لیے ’’گلوبل صمود فلوٹیلا‘‘ (Global Sumud Flotilla) ایک تاریخی انسانی کوشش کے طور پر سامنے آیا ہے، جس کا مقصد غزہ کے محصور عوام تک امدادی سامان پہنچانا اور اسرائیلی ناکہ بندی کو چیلنج کرنا ہے۔ یہ مضمون اس فلوٹیلا کے آغاز سے لے کر اب تک کے سفر، چیلنجز اور اہمیت پر روشنی ڈالتا ہے۔
فلوٹیلا کا آغاز: بارسلونا سے سفر کا نقطہ آغاز
گلوبل صمود فلوٹیلا کا سفر 31 اگست 2025 کو اسپین کے بندرگاہی شہر بارسلونا سے شروع ہوا۔ تاہم، خراب موسم کی وجہ سے قافلے کو واپس لوٹنا پڑا، اور یکم ستمبر 2025 کو دوبارہ روانگی اختیار کی گئی۔ یہ فلوٹیلا فریڈم فلوٹیلا کولیشن کے زیر اہتمام چل رہا ہے، جو 2010 میں قائم کی گئی ایک تنظیم ہے، اور اس کا بنیادی مقصد غزہ کی ناکہ بندی کو توڑنا اور وہاں کے عوام کے لیے امدادی سامان پہنچانا ہے۔فلوٹیلا میں 44 سے 50 ممالک کے 500 سے زائد انسانی حقوق کے کارکن، سیاست دان، ڈاکٹرز، وکلا، فنکار، اور دیگر سرگرم کارکن شامل ہیں۔ اس میں پاکستانی سینیٹر مشتاق احمد خان، بارسلونا کی سابق میئر آدا کولو، ہالی وڈ اداکارہ سوزن سرینڈن، اور معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ (جو بعد میں الگ ہو گئیں) جیسے نمایاں افراد بھی شامل ہیں۔
سفر کا تسلسل: تیونس سے یونان تک
بارسلونا سے روانگی کے بعد، فلوٹیلا کا اگلا پڑاؤ تیونس تھا، جہاں 4 ستمبر 2025 کو 70 سے زائد امدادی جہازوں نے قافلے میں شمولیت اختیار کی۔ تیونس کی بندرگاہ سیدی بوسعید میں تین دن کی ضروری تربیت کے بعد، قافلہ بحیرہ روم میں اپنے سفر پر روانہ ہوا۔ اس دوران، اٹلی کے شہر جنیوا سے بھی کئی جہاز فلوٹیلا میں شامل ہوئے
7 ستمبر تک، فلوٹیلا تیونس کے ساحلوں تک پہنچ چکا تھا، اور 16 جہاز تیونس کی بندرگاہوں گمرت، بزیرت، اور سیدی بوسعید سے روانہ ہوئے۔ یونان سے بھی دو امدادی کشتیاں قافلے کا حصہ بنیں، جس کے بعد جہازوں کی تعداد 50 سے تجاوز کر گئی۔ منتظمین کے مطابق، فلوٹیلا 14 یا 15 ستمبر تک غزہ پہنچنے کی توقع رکھتا تھا، لیکن اسرائیلی مداخلت اور دیگر چیلنجز نے اس سفر کو پیچیدہ بنا دیا
چیلنجز اور اسرائیلی مداخلت
گلوبل صمود فلوٹیلا کو اپنے سفر کے دوران متعدد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ اسرائیلی بحریہ نے فلوٹیلا کو روکنے کے لیے ہنگامی مشقیں شروع کیں، اور ڈرون حملوں کے ذریعے قافلے کو ہراساں کیا گیا۔ 24 گھنٹے تک مواصلاتی جیمنگ کی وجہ سے فلوٹیلا کا رابطہ دنیا سے منقطع رہا، لیکن انٹرنیٹ بحال ہونے کے بعد قافلہ دوبارہ اپنی صورتحال سے عالمی برادری کو آگاہ کرنے لگا۔اسرائیلی فوج نے 9 جون 2025 کو فلوٹیلا کے ایک جہاز ’’میڈلین‘‘ کو بین الاقوامی پانیوں میں غزہ سے 185 کلومیٹر کے فاصلے پر روک لیا تھا۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسرائیل فلوٹیلا کے مشن کو ناکام بنانے کے لیے فعال ہے۔ تاہم، فلوٹیلا کے شرکاء نے عدم تشدد کی تربیت حاصل کی ہے اور واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی حملے کے خلاف جسمانی یا زبانی مزاحمت نہیں کریں گے تاکہ کسی کی جان خطرے میں نہ پڑے۔
انٹرنیٹ اور رابطہ کاری
کھلے سمندر میں انٹرنیٹ تک رسائی فلوٹیلا کے لیے ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، فلوٹیلا سیٹلائٹ کمیونیکیشن سسٹمز، جیسے کہ Inmarsat FleetBroadband، کے ذریعے انٹرنیٹ اور دیگر رابطہ ذرائع کو برقرار رکھ رہا ہے۔ یہ نظام چھوٹے اینٹینوں کے ذریعے جیو اسٹیٹری سیٹلائٹس سے رابطہ کرتا ہے، جو فلوٹیلا کو ویڈیوز، پریس ریلیز، اور سوشل میڈیا اپڈیٹس شیئر کرنے کے قابل بناتا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور انسٹاگرام پر فلوٹیلا کے ارکان لمحہ بہ لمحہ اپڈیٹس فراہم کر رہے ہیں۔
عالمی حمایت اور مطالبات
فلوٹیلا کو عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ 16 ممالک، جن میں ترکی، قطر، پاکستان، جنوبی افریقہ، اور اسپین شامل ہیں، نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے فلوٹیلا کے تحفظ اور بین الاقوامی قانون کے احترام کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بین الاقوامی پانیوں میں فلوٹیلا پر کسی بھی حملے کی صورت میں جوابدہی ہوگی۔ اقوام متحدہ نے بھی غزہ میں قحط کی تصدیق کی ہے، جس نے فلوٹیلا کے مشن کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا ہے۔
فلوٹیلا کے مقاصد
پاکستانی سینیٹر مشتاق احمد خان کے مطابق، فلوٹیلا کے تین بنیادی مقاصد ہیں: 1غزہ کی ناکہ بندی ختم کرنا۔2امداد کے لیے انسانی کوریڈور قائم کرنا۔3غزہ میں جاری نسل کشی کا خاتمہیہ مشن نہ صرف امدادی سامان جیسے خوراک، پانی، اور ادویات پہنچانے کا ذریعہ ہے بلکہ غزہ کے عوام کے ساتھ عالمی یکجہتی کا ایک طاقتور پیغام بھی ہے
اہمیت اور اثرات
گلوبل صمود فلوٹیلا صرف ایک امدادی مشن نہیں بلکہ غزہ میں جاری انسانی بحران کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی ایک عظیم کوشش ہے۔ یہ فلوٹیلا فلسطینی عوام کی 700 دنوں سے زائد عرصے سے جاری استقامت کی علامت ہے۔ اس نے عالمی برادری کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ غزہ کا بحران رنگ، نسل، اور مذہب سے بالاتر ایک انسانی مسئلہ ہے۔